انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہوتے ہیں، لیکن ان کے انعقاد اور نتائج کو قبول کرنے کا طریقہ دنیا بھر میں مختلف ہوتا ہے۔ اس سال کئی ممالک میں انتخابات ہوئے، مگر کسی بھی ملک میں پاکستان جیسی دھاندلی کے الزامات اور طویل قانونی جنگیں نہیں دیکھنے کو ملیں۔ حکومت بننے کے پانچ ماہ بعد بھی یہ مسائل پاکستان میں جاری ہیں۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ ہم عالمی انتخابات سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں، میں نے امریکہ میں مقیم سیاسی تجزیہ کار پروفیسر عادل نجم سے بات کی۔
عالمی منظرنامہ: بھارت، برطانیہ اور دیگر ممالک
بھارت کے طویل انتخابات
بھارت میں انتخابات 19 اپریل سے یکم جون تک سات مراحل میں منعقد ہوئے، جس میں 543 لوک سبھا نشستوں کے لیے جنگ ہوئی۔ نریندر مودی کی حکومت تقریباً کانگریس اور اتحادیوں کے ہاتھوں ہار جاتی مگر دھاندلی کا شور مچا نہ مخصوص نشستوں کا قصہ چھڑا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے مقابلے میں بھارت میں جمہوری بلوغت آگئی ہے؟
پروفیسر عادل نجم کا کہنا تھا کہ بھارت میں میچورٹی ہو یا نہ ہو، اس کے اور بڑے مسائل ہیں۔ وہاں بہت سے اور چیزوں میں میچورٹی نہیں، مگر یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی میچورٹی نہیں۔
برطانیہ: قدامت پسندوں کی شکست
جس برطانیہ سے پاکستان کو آزادی ملی، وہاں نسبتاً قدامت پسند کنزرویٹوز کو قوم نے ایسا سبق سکھایا کہ دو صدیوں میں یہ دن نہ دیکھنا پڑا تھا۔ 650 رکنی ایوان میں نسبتاً سینٹر لیفٹ لیبر اقتدار میں آئی اور انیس برس میں ایسا سورج چڑھتا نہ دیکھا گیا تھا۔ پہلی بار الیکشن لڑنے والی انتہائی دائیں بازو کی ریفارم پارٹی بھی پانچ سیٹیں لے گئی، مگر ہارنے والے نے قوم کے فیصلے کے سامنے سر جھکا دیا۔ سبکدوش وزیراعظم رشی سونک نے کہا، ‘مجھے معاف کیجیے، میں نے پوری توانائیاں صرف کی تھیں، مگر آپ نے واضح پیغام دیا ہے کہ برطانوی حکومت تبدیل ہو۔ میں نے آپ کا غصہ اور مایوسی محسوس کی اور شکست کی ذمہ داری لیتا ہوں’۔
جیونیوز کی خصوصی الیکشن ٹرانسمیشن
جیونیوز پر نشر سات گھنٹے کی خصوصی الیکشن ٹرانسمیشن میں، جسے میں نے پروڈیوس کیا تھا، کئی اراکین پارلیمنٹ اور سیاسی تجزیہ کاروں سے بات کی گئی۔ سب کو یقین تھا کہ نتائج خوشدلی سے قبول کیے جائیں گے اور فارم 45 یا 47 کا جھگڑا نہیں ہوگا۔
فرانس اور اٹلی: انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں
فرانس میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ہاتھوں خطرناک انقلاب آتے آتے رہ گیا۔ ماغین لوپین کی نیشنل ریلی پارٹی کو صدر عمانویل میکرون کی سینٹریسٹ آں سونمبلا اور ژان لُوک میلاں شاں کی قیادت میں بائیں بازو کے این ایف پی اتحاد نے الیکشن کے دوسرے راؤنڈ میں بمشکل روکا۔ اٹلی میں تو پہلی بار انتہائی دائیں بازو کی حکومت بن گئی۔ فرانس کے لبرل عوام ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر اس خطرناک رجحان کے سامنے ڈھال بن گئے۔ انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں نے اپنے خلاف جوڑ توڑ پر اعتراض تو کیا مگر کورٹ کچہری نہ ہوئی۔
پروفیسر عادل نجم کا کہنا تھا کہ ‘فرانس کے انتخابات میں میرے خیال میں ایک بات بہت اہم تھی اور وہ یہ کہ یہ الیکشن اسٹریٹیجک تھے، یہ یقینی طور پر حکمت عملی کی جیت تھی، یعنی جوڑ توڑ کی جیت تھی’۔
ایران: اصلاح پسندوں کی جیت
ایران میں قدامت پسند صدر ابراہیم رئیسی کے انتقال سے پیدا خلا اصلاح پسند ہارٹ سرجن مسعود پازیشکیان نے پُر کیا۔ قدامت پسند حریف سعید جلیلی کو ایک ایسے شخص کے ہاتھوں شکست ہوئی جنہیں اس سے پہلے صدارتی امیدوار بننے کے بھی قابل نہیں سمجھا گیا تھا۔ یہاں بھی معاملہ خوش اسلوبی سے کیسے نمٹ گیا؟
پروفیسر عادل نجم کے نزدیک ‘ایران کے انتخابات کی دنیا میں اتنی بات نہیں ہوتی جتنی ہونی چاہیے۔ لیکن آپ پچھلے تمام انتخابات دیکھ لیں، وہ سارے ہی دلچسپ تھے۔ یہ بہت حد تک محدود ہوتے ہیں کیونکہ سسٹم آزاد نہیں، وہ بہت سے لوگوں کو اجازت نہیں دیتا مگر جب فیصلہ ہو جاتا ہے کہ ان لوگوں کے درمیان مقابلہ ہے تو الیکشن بھرپور ہوتا ہے اور اس میں کئی بار کسی نہ کسی قسم کا سرپرائز ہوتا ہے جو اس بار بھی ہوا’۔
نتیجہ: پاکستان کیا سیکھ سکتا ہے؟
اس صورتحال میں سوال یہ ہے کہ ہر انتخابات میں ہمیں دھڑکا کس بات کا ہوتا ہے؟
پروفیسر عادل نجم کا کہنا تھا کہ ‘شاید ہم جمہوری حقوق سے اتنا ڈر جاتے ہیں کہ کہیں غلط بندہ نہ آ جائے۔ ہم اس غلط بندے کو نہ لانے کے لیے ہر قسم کا محاذ کھڑا کر دیتے ہیں اور یہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ جمہوریت یہ نہیں ہوتی کہ میں بہتر لیڈر منتخب کروں گا، جمہوریت یہ ہے کہ میں جسے بھی لیڈر منتخب کروں، اگر اس کے ووٹ زیادہ ہیں تو اس وقت وہی لیڈر ہے’۔
آگے کا راستہ
اس سال ابھی امریکا سمیت درجنوں ممالک میں انتخابات باقی ہیں۔ یہ طے ہے کہ جہاں اداروں کو عوام کے انتخاب پر اعتماد ہے اور جمہوری بلوغت ہے وہاں انتخابات کے بعد پاکستان کی طرح فارم 45 اور 47 کے قصے، بے یقینی اور مقدمے بازی نہیں ہوگی۔
Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.